نئی دہلی،10؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے مراٹھا سماج کو ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دینے والے مہاراشٹر حکومت کے 2018ء کے قانون پر روک لگاتے ہوئے اس معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کردیاہے۔ البتہ جسٹس ایل ناگیشور راؤ، ہیمنت گپتا اور ایس رویندر بھٹ کی بنچ نے واضح کیا ہے کہ اب تک اس قانون کے تحت دیئے گئے داخلوں یا ملازمتوں پر اس روک کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی شنوائی اب چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے کے ذریعہ تشکیل دی گئی آئینی بنچ کریگی۔
یاد رہے کہ مراٹھا سماج کو بھی ریزرویشن دینے کیلئے حکومت مہاراشٹر نے 2016ء میں سماجی اور تعلیمی طورپر پسماندہ طبقات ایکٹ میں ترمیم کی تھی جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیاہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے جون میں اس کی توثیق کرتے ہوئے اپنےفیصلے میں کہا تھا کہ16؍ فیصد ریزرویشن کا کوئی جواز نہیں ہے اوراسے ملازمتوں میں 12؍ فیصد جبکہ داخلوں میں 13؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ اب اس بات کافیصلہ کریگی کہ کیا ریاستیں ریزرویشن کی 50؍ فیصد کی حد سے تجاوز کرسکتی ہیں جو اندرا شانے کیس میں خود سپریم کورٹ نے طے کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2014ء میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ مسلمانوں کیلئے 5؍ فیصد اور مراٹھا سماج کیلئے 16؍ فیصد ریزرویشن دینے کافیصلہ کیاتھا۔ مراٹھا ریزرویشن کو ہائی کورٹ میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ مسلم ریزرویشن کو کلین چٹ مل گئی تھی پھر بھی آرڈیننس کو قانون کی شکل نہ دینے کی وجہ سے اس کی مدت ختم ہونے کے بعد مسلمان ریرزرویشن سے محروم ہوگئے جبکہ مراٹھا ریزرویشن کو باقاعدہ اسمبلی میں منظور کیاگیا جسے مسلسل عدالتی جانچ کا سامنا ہے۔